Friday 23 June, 2017

سمندری تہہ کو خوبصورت نقش و نگار سے سجانے والی مچھلی


ٹوکیو: (کوہ نور نیوز) جاپانی جزیرے امامیوشیما کے نزدیک سمندری تہہ میں جانے والے غوطہ خور برسوں سے وہاں خوب صورت نقوش و نگار دیکھ رہے تھے جو پہلی نظر میں ایسے لگتے تھے جیسے کسی ماہر آرٹسٹ نے اپنے فن کا نمونہ سمندری تہہ کی مٹی پر بنا دیا ہو۔ ان دلکش نقوش و نگار کی جسامت خاصی بڑی ہوتی ہے کہ جسے دیکھ کر ابتداء میں بحری حیاتیات (میرین بائیالوجی) کے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ شاید سمندری تہہ میں کوئی بڑا جانور یہ کام کرتا ہوگا۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے ماہرین کی ایک ٹیم نے مسلسل ایک سال تک سمندری تہہ پر نظر رکھنے کے بعد ایک حیرت انگیز انکشاف کیا کہ سمندری تہہ میں بنے یہ خوب صورت فن پارے کسی بڑی سمندری مخلوق کا کارنامہ نہیں بلکہ ان کی تخلیق کار ایک ننھی منی ’نر پفر فش‘ ہوتی ہے جو دراصل اپنی مادہ کو متوجہ کرنے اور ملاپ کرنے کےلیے یہ ساری کارروائی کرتی ہے۔ ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ایک پُرکشش دائرے کی شکل میں دکھائی دینے والے یہ منظم نقوش و نگار بعض اوقات اس پفر فش کی اپنی جسامت کے مقابلے میں 20 گنا تک بڑے ہوسکتے ہیں جب کہ انہیں بنانے میں نر پفر فش کو 6 ہفتے تک لگ جاتے ہیں۔ اس دوران نر پفر فش نہ صرف سمندری تہہ میں ریت کو خاص انداز سے اِدھر اُدھر ہٹا کر لہریئے دار دائرے کی شکل میں لاتی ہے بلکہ اس خوب صورت جگہ کو سیپیوں اور گھونگھوں کے خول سے سجا کر اور بھی زیادہ دلکش بناتی ہے تاکہ مادہ پفر فش کی نگاہ اس پر پڑے تو وہ متاثر ہو کر فوراً اس طرف تیرتی چلی آئے اور نر کے ساتھ ملاپ کرکے اس کی نسل آگے بڑھائے۔ یہ تمام باتیں ماہرین کے مشاہدے میں آچکی ہیں لیکن اب تک وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ایک ننھی سی مچھلی میں انتہائی پیچیدہ اور خوبصورت فن پارے تخلیق کرنے کی یہ غیرمعمولی صلاحیت کہاں سے اور کیسے پیدا ہوئی۔

پروگرام گائیڈ