Saturday 24 June, 2017

فوٹو لیک؛ حسین نواز کی درخواست پر فیصلہ کل سنایا جائے گا


اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) پاناما کیس کے لیے بننے والی جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز کی دوران تفتیش تصوہر میڈیا پر آنے کے بعد ایک طوفان برپا ہوگیا تھا اور (ن) لیگ کی جانب سے تصویر لیک کرنے کا الزام جے آئی ٹی پر عائد کیا گیا تھا۔ حسین نواز نے تصویر لیک کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی جمع کی تھی جس پر جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور جے آئی ٹی سے وضاحت طلب کی تاہم جے آئی ٹی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا تھا۔ جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ حسین نواز کی تصویر لیک کرنا ایک شخص کا ذاتی فعل تھا جس کے خلاف اسی وقت کارروائی کی گئی تھی جب کہ جے آئی ٹی کے کسی رکن کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے 14 جون کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت نے جان بوجھ کر حسین نواز کی تصویر لیک کرائی کیوں کہ جوڈیشل اکیڈمی مکمل طور پر حکومت کی دسترس میں ہے اور اگر وہاں سے کوئی تصویر لیک ہوتی ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔

پروگرام گائیڈ