Saturday 21 October, 2017

شامی فضائیہ کا طیارہ مار گرائے جانے پرامریکا اورروس کے درمیان کشیدگی


دمشق: (کوہ نور نیوز) داعش کے خلاف امریکی قیادت میں بننے والے عسکری اتحاد کی جانب جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ امریکی جنگی طیارے نے اتوار کے روز شامی فضائیہ کے ایک طیارے کو مار گرایا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ شامی طیارے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیون کہ اس نے شام کے ان جنگجوؤں پر بمباری کی جو داعش کے خلاف جنگ میں معاونت کررہے ہیں۔ کمبائنڈ ٹاسک فورس نے اپنے بیان میں کہا کہ شامی حکومت کے طیارے ایس یو 22 نے طبقہ کے جنوب میں سیریئن ڈیموکریٹک فائٹرز (ایس ڈی ایف) کو نشانہ بنایا جس کے فوراً بعد امریکا کے ایف اے 18 سپر ہارنیٹ نے اسے تباہ کردیا کیوں اتحادی فورسز کے دفاع کے مشترکہ معاہدے کے تحت یہ ضروری تھا۔ امریکا کی اس کارروائی سے روس کافی نالاں ہے اور اس نے بیان جاری کیا ہے کہ اب وہ بھی شام میں امریکی طیاروں کو اپنے ہدف کے طور پر دیکھے گا۔ روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے شامی طیارے کو گرائے جانے کے بعد روس نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے طیاروں کو ہدف تصور کرے گا۔ روس نے کہا کہ امریکا کے ساتھ ہاٹ لائن رابطہ بھی منقطع کردیا گیا ہے جو شام میں روس اور امریکی طیاروں کے درمیان فضائی تصادم کو روکنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب امریکا نے شامی فضائیہ کے طیارے کو مار گرایا ہے، اسے قبل اپریل کے مہینے میں بھی شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکی طیاروں نے شامی ایئر بیس پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد طیارے اور ایئربیس تباہ ہوگیا تھا۔

پروگرام گائیڈ