Saturday 21 October, 2017

وزرائے اعظم کے ساتھ 70 برس سے ہونے والا تماشہ بند کیا جائے، نواز شریف


گوجرانوالہ: (کوہ نور نیوز) نواز شریف نے کہا کہ نے کہا کہ مجھے جو پیار آج ملا ہے اس کی کوئی مثال نہیں، نواز شریف یہ پیار زندگی بھر نہیں بھولے گا، میں خوش نصیب ہوں کہ لوگ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ نے کہا کہ میں لاہور جارہا تھا کہ گوجرانوالہ نے مجھے روک لیا، ججوں کی بحالی کے لیے جب ہم نے مارچ کیا اور جیسے ہی ہم گوجرانوالہ پہنچے تھے تو اعلان ہوا تھا کہ ججز بحال ہوگئے، یہ میرے لیے مبارک شہر ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو وزیر اعظم آپ لوگوں نے بنایا تھا، آج نواز شریف کو انہوں نے نکال دیا، کاغذوں سے نکال دیا لیکن آپ کے دلوں سے نہیں نکال سکے، یہ بھی کوئی نکلنا ہے؟ کل یہ مجھے دوبارہ وزیر اعظم بنا دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ میرا مقصد دوبارہ وزیراعظم بننا نہیں، میرا مقدمہ اس شہر کی عدالت میں یہ ہے کہ پاکستان کے مالک یہ 20 کروڑ عوام ہیں کہ نہیں؟ تو مجھے کس بات پر نکالا؟اس لیے کہ ہم روشنیاں واپس لارہے تھے؟ بجلی واپس اور سستے داموں واپس لارہے تھے؟ ملک ترقی کررہا تھا؟ اور بے روزگاری کا خاتمہ ہورہا تھا۔ نااہل وزیراعظم نے کہا کہ دنیا تسلیم کررہی تھی کہ پاکستان ترقی کررہا ہے، تجارت بڑھ رہی تھی، بے روزگاری ختم ہورہی تھی،پاکستان میں موٹر وے،ہائی وے سب بن رہے تھے، امن قائم ہورہا تھا اور دنیا مان رہی تھی کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان پرامن ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی ان لوگوں کو برداشت نہیں ہوئی اور حملے شروع ہوگئے، کہا گیا کہ نواز شریف کامیاب ہوگیا تو اگلے سال پھر ن لیگ کی حکومت آجائے گی اور ہماری پاکستان میں کوئی سیاست نہیں رہے گی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے میرے خلاف ساڑھے تین سال سے سازشیں ہورہی ہیں، ہم نے ان کا مقابلہ کیا اس کے باوجود ترقی کی رفتار اور تیز کی، ساتھ ساتھ سازشیں بھی تیز ہوئیں اور نواز شریف کو بڑی رسوائی کے ساتھ وزارت عظمیٰ سے نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے کیوں نکالا گیا؟ کیا کرپشن کی میں نے؟ کون سا روپیہ خورد برد کیا؟ یہ تو وہ بھی مانتے ہیں کہ نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی جنہوں نے مجھے نکالا؟ یہ پوچھنا میرا اور عوام دونوں کا حق بنتا ہے کہ کیوں نااہل کیا؟ انہوں نے کہا کہ جب سے پیدا ہوا ہوں پاکستان کا وفادار ہوں؟ کوئی کرپشن تو ثابت کرو، کون سا کمیشن لیا؟ کیا رشوت لی؟ کون سے حرام کی کمائی کی؟ ایٹمی طاقت بنانے والے وزیر اعظم سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے؟ انہوں نے عوام کو مخاطب کیا کہ کیا انصاف کرو گے میرے ساتھ؟ تیسری بار بھی حکومت کی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی، میں پوچھتا ہوں کہ 20 کروڑ عوام کے ووٹوں کی کوئی عزت ہے کہ بھی نہیں؟ کیا آپ کو قبول ہے؟ نواز شریف نے کہا کہ 70 برس سے پاکستان کی یہی تاریخ رہی ہے کہ جو بھی وزیر اعظم آیا اسے ذلیل و رسوا کرکے نکالا گیا، کسی کو پھانسی دی گئی اور کسی کو ہتھکڑی لگادی گئی اور کسی کو جیلوں میں ڈالا گیا، کیا منتخب وزیر اعظم کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان میں ایسا ہورہا ہے، دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا جہاں 70 برس سے ایسا تماشہ ہورہا ہو، یہ بدنصیبی پاکستان کے حصے میں آئی ہے، کتنا بدنصیب ہے پاکستان جو اپنی راہ متعین نہیں کرسکا، کبھی یہاں مارشل لا ہوتا ہے کبھی یہاں لولی لنگڑی جمہوریت، 18 وزیراعظم ڈیڑھ ڈیڑھ سال کے لیے آئے اور 3 ڈکٹیٹر 30 سال کھا گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی بہانہ نہیں ملا تو یہ کہہ کر مجھے برطرف کردیا گیا کہ بیٹے کی کمپنی سے کوئی رقم لی، کیا یہ وجہ سمجھ میں آتی ہے؟ کیا یہ صحیح فیصلہ ہے؟ وہ اُس عدالت کا فیصلہ تھا اور آج یہ اس عدالت کا فیصلہ ہے، یہ اس شہر کا فیصلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا فیصلہ ہے کہ انہوں نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا۔ نواز شریف نے عوام سے کہا کہ وہ دل سے عہد کریں کہ وہ اپنے ووٹوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونے دیں گے، یہاں کے لوگ جب عہد کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں، اس موقع پر نواز شریف نے لوگوں کے ہاتھ کھڑے کرائے کہ جنہوں نے فیصلہ تسلیم نہیں کیا وہ لوگ ہاتھ کھڑے کریں جواب میں مجمع نے ہاتھ کھڑے کردیے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹوں کو روندتے کی ہزیمت برداشت کریں گے؟ اس طرح پاکستان دنیا میں باعزت قوم نہیں بن سکتا، پاکستان کو اس طرح 50 برس پیچھے کیا جارہا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ تمام شہروں میں ایک بات کی اور یہاں بھی کہہ رہا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بحال کرانے کے لیے نہیں آیا، پاکستان کی عزت اور وقار بحال کرانے کے لیے آیا ہوں، کیا عوام میرا ساتھ دیں گے؟ عزت پاکستان کی بحال ہوگی تو آپ کی اور بچوں کی عزت اور وقار بھی بحال ہوگا اور لوگوں کو باعزت روزگار بھی ملے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک آپ کو اس ملک میں باعزت روزگار نہ مل جائے، میں آپ کے لیے آپ کو جگانے آیا ہوں تاکہ پاکستان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مذاق بند ہوجائے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عوام عہد کریں کہ پاکستان کی تقدیر بدلیں گے، یہ مذاق مزید برداشت نہیں کریں گے، میں عوام کی آنکھوں میں امید کی کرن دیکھ رہا ہوں، گبھرائیں نہیں ہم کہیں نہیں گئے ہم یہاں موجود ہیں، پاکستان چند مخصوص لوگوں کا نہیں بلکہ نواز شریف اور ان تمام کروڑوں لوگوں کا ملک ہے ہم مل کر اسے سجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک میں اصلی پاکستان نہیں بنادیتا نہ میں چین سے بیٹھوں کا اور نہ آپ کو بیٹھنے دوں گا، میں اپنا وعدہ وفا کروں گا آپ اپنا وعدہ وفا کریں، میں آپ کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔ انہوں نے بچے کی ہلاکت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کے گھر خود جاؤں گا اور اس کی جو مدد ہوسکی ضرور کروں گا، اللہ تعالیٰ بچے کو جنت میں جگہ اور گھر والوں کو صبر جمیل دے۔

پروگرام گائیڈ