Tuesday 12 December, 2017

ایک سو چھ سال پرانا لیکن تازہ فروٹ کیک دریافت


آک لینڈ: (کوہ نور نیوز، ویب ڈیسک) انٹارکٹیکا کے دور افتادہ مقام ’’کیپ اڈیئر‘‘ پر نیوزی لینڈ کے ماہرین کی ٹیم تحقیقی مہم میں مصروف تھی کہ اس نے یہ جھونپڑی اتفاقاً دریافت کرلی۔ چھان بین کے دوران یہ کیک انہیں وہاں ایک شیلف پر رکھا ہوا ملا جسے اندازاً 1911 میں یہاں لایا گیا تھا۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ بیسویں صدی کے اوائل میں یہ جھونپڑی شاید کچھ عرصے کے لیے رابرٹ فالکن اسکاٹ نامی برطانوی مہم جُو اور ان کے ساتھیوں کے استعمال میں رہی تھی اور شاید یہ کیک بھی ان ہی دنوں یہاں لایا گیا تھا۔ یہ کیک دیکھنے میں اور چھونے پر بالکل تازہ لگتا ہے لیکن اب تک کسی نے اسے چکھ کر نہیں دیکھا کیونکہ عالمی قوانین کی رُو سے انٹارکٹیکا یا آرکٹک سے ملنے والی کسی بھی قدیم (لیکن قابلِ نوش) چیز کو کھایا اور چکھا نہیں جا سکتا۔ یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ عام درجہ حرارت کی نسبت شدید سرد ماحول میں کھانے پینے کی چیزیں زیادہ لمبے عرصے تک محفوظ رہتی ہیں لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر یہ کیک 106 سال تک اتنی تروتازہ حالت میں کیسے برقرار رہ گیا کہ اب تک اس کی نرمی، نمی اور خوشبو تک ویسی کی ویسی ہیں۔ فی الحال نیوزی لینڈ کے ماہرین اس کیک کو خصوصی انتظامات میں اپنے ملک لے گئے ہیں البتہ ان کا کہنا ہے کہ یہ کیک انٹارکٹیکا کا ’’ثقافتی ورثہ‘‘ ہے اس لیے تحقیق مکمل ہوتے ہی اسے بحفاظت واپس وہیں پہنچا دیا جائے گا جہاں سے اسے اٹھایا گیا تھا۔

پروگرام گائیڈ