Saturday 21 October, 2017

صوبہ پنجاب میں گزشتہ 2 سال کے دوران 24 خواجہ سرا قتل


لاہور: (کوہ نور نیوز) صوبائی دارالحکومت سمیت دیگر اضلاع میں دو سال کے دوران مختلف وجوہات پر 24 خواجہ سرا قتل، 121 کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے صرف 3 کیس ٹریس کئے۔ انصاف کے منتظر قتل کے 6 مقدمات کے مدعی بھی چل بسے۔ لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد، ساہیوال، چنیوٹ، ملتان، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں میں رقم کے لین دین، پرانی عداوت اور جائیداد کی تقسیم کی بنا پر خواجہ سراﺅں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اکثر قتل کے مقدمات کے مدعی خواجہ سرا کے ساتھی یا گرو تھے۔ پوسٹمارٹم رپورٹس کے مطابق تمام خواجہ سرا ﺅں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کیا گیا۔ فیصل آباد میں دو خواجہ سرا بھائیوں افضل عرف بلی اور اسلم عرف ریما کو نامعلوم افراد نے ایک کارخانہ میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور فرار ہو گئے، کیس ابھی تک زیر التوا ہے۔ مقتولین کا والد انصاف مانگنے مانگتے چل بسا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اکثر مقدمات میں مدعی ملزموں سے رقم لیکر پیروی کرنا چھوڑ دیتے ہیں جس پر پولیس بے بس ہوتی ہے۔ جنسی تشدد کے بیشتر واقعات تفتیش میں جھوٹے نکلے۔ خواجہ سرا رقم کیلئے مقدمات درج کراتے ہیں۔ قتل کے بعض مقدمات میں ملزموں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ صدر کے علاقہ میں رہائش پذیر گرو احسان عرف لیلیٰ نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ پولیس ملزموں سے مُک مُکا کر کے مقدمات خارج کر دیتی ہے۔

پروگرام گائیڈ