Thursday 14 December, 2017

پنجاب فوڈ اتھارٹی کا 2020 تک بناسپتی گھی پر پابندی کا فیصلہ


لاہور: (کوہ نور نیوز) بناسپتی گھی کے مضر اثرات کے حوالے سے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے اجلاس میں ماہرین خوراک اور طبی ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر پنجاب فوڈ اتھارٹی سے وابسہ سائنسدانوں کے نگراں پینل نے اس بات کا انکشاف کیا کہ صنعتی سطح پر بناسپتی گھی کی تیاری میں بڑی مقدار میں پیلمیٹک ایسڈ، ٹرانس فیٹی ایسڈ اور نکل دھات شامل ہے جس کے انسانی جسم پر نہایت مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اجلاس کے دوران شرکا اس نتیجے پر پہنچے کہ بناسپتی گھی میں مضر صحت اشیا ذہنی و جسمانی امراض کے ساتھ، ذیابیطس، موٹاپے، دل کی بیماریوں سمیت کینسر جیسے امراض کا باعث بنتی سکتی ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت اثرات کے باعث بناسپتی بنانے والی کمپنیوں کو متبادل پیداوار کے لئے تین سال کا وقت دینے کی منظوری دی ہے جس کے بعد 2020 تک پنجاب میں بناسپتی گھی پر مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔ فوڈ اتھارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ گھی میں ٹراسفیٹی ایسڈ کو اعشاریہ 5 فیصد تک محدود کردیا جائے گا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نورالامین مینگل کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تیل اور گھی کا فی کس استعمال سالانہ 18 کلو گرام ہے جب کہ یورپ میں یہ مقدار تین کلو گرام ہے۔ نورالامین مینگل نے زور دیا ہے کہ عوام بناسپتی گھی کے بجائے زیتون، سویابین اور سورج مکھی کے تیل کا استعمال کریں۔

پروگرام گائیڈ