Saturday 21 October, 2017

جہانگیر ترین نااہلی کیس: جعلی لیز تیار کر کے منی لانڈرنگ کی گئی، مخالف وکیل کا مؤقف


اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت ہوئی۔ جہانگیر ترین کے وکیل نے تحریری معروضات عدالت میں پیش کردیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کوئی لیز زمین سے 10 ارب کما لے تو کیا ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا؟ ایسی صورت میں وہ شخص الیکشن فارم میں کیا لکھے گا۔ جہانگیرترین کے وکیل نے کہا کہ ایسی صورت میں وہ شخص نل لکھے گا، لیز زمین پر ٹھیکیدار پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔ درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل نے کہا کہ جعلی لیز تیار کر کے منی لانڈرنگ کی گئی۔ عدالت نے دریافت کیا ہے کہ اگر کوئی ٹیکس کم دے تو اس کے لیے کیا سزا ہوگی؟ فرض کریں لیز کی زمین پر ٹیکس بنتا تھا اور جہانگیر ترین نے نہیں دیا تو کیا ہوگا؟ وکیل نے کہا کہ جہانگیر ترین اس بنیاد پر نااہل نہیں ہوسکتے۔ وہ باقاعدگی سے مکمل ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جہانگیر ترین نے مکمل زرعی آمدنی الیکشن کمیشن کو نہیں بتائی۔ لیز زمین پر ٹیکس لاگو ہونے پر فی الحال آپ مطمئن نہیں کر سکے۔ جہانگیر ترین کو آمدن مل رہی تھی، قانون کے تحت کاشت کار کو آمدنی ٹیکس دینا ہے۔ معزز عدالت نے کہا کہ آپ کے مؤکل نے زرعی آمدن پر 5 فیصد کے اعتبار سے ٹیکس دینا تھا۔ ابھی ہم قانون کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، عدالت اپنی حتمی رائے نہیں دے رہی۔ عدالت کے استفسار پر جہانگیر ترین کے وکیل نے کہا کہ کوشش کروں گا 2 سماعتوں میں دلائل مکمل کرلوں۔ جہانگیر ترین نااہلی کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی گئی۔

پروگرام گائیڈ