Thursday 23 November, 2017

'اثاثوں کی جو تعریف سپریم کورٹ نے کی وہ بلیک لاء ڈکشنری میں موجود ہی نہیں'


اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز نے شہر اقتدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ اداروں کی پاسداری نہیں کرتے، ہم نے توعدلیہ کی بحالی کیلئے جنگ لڑی، اداروں کی توہین کا سوچا بھی نہیں جا سکتا، مجھے پاکستان کے اداروں کو تقویت دینے کیلئے تمغے بھی ملے، یہ اقامہ کیس ہے، پانامہ کیس تو رہا ہی نہیں۔ دانیال عزیز نے مزید کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، عدلیہ کہتی ہے نواز شریف کیخلاف فیصلہ بلیکس لاء ڈکشنری کے تحت کیا گیا لیکن ایک بہت بڑی غلطی ہو چکی جس کی زد میں پورا پاکستان آیا، یہ تو گنگا الٹی بہہ رہی ہے، ہمیں نہیں معلوم یہ کلرک کی ذمہ داری تھی یا کسی اور کی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا تو جو نقصان ہونا تھا، ہو گیا، جو کیش ملا ہی نہیں، اسے اثاثوں میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔

پروگرام گائیڈ