Saturday 16 December, 2017

'مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی اقدام سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے'


لاہور: (کوہ نور نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے منصوبے پر عالمی رہنماء بھی بول پڑے، چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی اقدام سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے، فریقین خطے کا امن سکون ذہن میں رکھیں۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جونسن نے ٹرمپ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا، ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ٹرمپ کا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ غیرقانونی ہو گا۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے متنبہ کیا ایسے فیصلے کے نتائج عالمی امن کے لئے سنگین ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ فیصلے سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوسکتا ہے، اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ آج یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیں گے۔ وہ وزارتِ خارجہ کو حکم دیں گے کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیں۔ ادھر امریکی ممکنہ فیصلے کے خلاف مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں نے صدر ٹرمپ کی تصاویر جلا دیں۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے تل ابیب سے سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے ارادے کے بعد ترک صدر طیب اردوان نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کی دعوت دے دی ہے، ترک میڈیا کے مطابق طیب اردوان نے اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس 13 دسمبر کو ترکی کے شہر استنبول میں بلانے کی دعوت دی ہے۔ ترک صدر کا بیان امریکی انتظامیہ کے بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ترک صدر کے ترجمان کے مطابق اجلاس کا مقصد مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسی پر مسلم ممالک کا متفقہ لائحہ عمل سامنے لانا ہے۔ اس لے علاوہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے کہا ہے کہ امریکی اور صیہونی سازش کے خلاف عالم اسلام اٹھ کھڑا ہو گا۔

پروگرام گائیڈ