میانمار کے فوجی سربراہ کا روہنگیا مسلمانوں کے قتل کا اعتراف

میانمار: (کوہ نور نیوز) میانمار کی فوج کے کمانڈر ان چیف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ رخائن میں اجتماعی قبر سے برآمد ہونے والے روہنگیا افراد نے بدھ متوں کو دھمکی دی تھی جس کے جواب میں انہیں قتل کر دیا گیا۔ برمی فوج کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جن 10 روہنگیا مسلمانوں کی لاشیں اِن ڈِن نامی گاؤں کے قبرستان سے برآمد ہوئیں وہ بنگالی دہشت گرد تھے۔ میانمار کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں اعتراف کیا گیا کہ 10 روہنگیا مسلمانوں کو سیکیورٹی فورسز اور بدھ متوں نے قتل کیا، اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف اور معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ خیال رہے کہ میانمار کی فوج نے گزشتہ برس اگست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس میں اب تک 7 ہزار کے قریب افراد ہلاک اور ساڑھے 6 لاکھ بنگلا دیش ہجرت کر چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ برمی افواج کے اقدامات کو روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی قرار دے چکی ہے۔ روہنگیا مسلمان دہائیوں سے میانمار میں رہائش پزیر ہیں تاہم میانمار حکومت اور بدھ مت انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور ان کا موقف ہے کہ یہ لوگ بنگالی ہیں اور بنگلا دیش سے سرحد پار کر کے میانمار میں داخل ہوئے ہیں جب کہ بنگلا دیش بھی انہیں اپنا شہری تسلیم نہیں کرتا اور میانمار کی سرحد پار کر کے وہاں جانے والوں کو گرفتار کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔