پاک، بھارت کرکٹ کی بحالی حکومتوں کا معاملہ ہے: وسیم اکرم

سوئٹزرلینڈ: (کوہ نور نیوز) کرکٹ آن آئس کے لیے سوئٹزرلینڈ میں موجود وسیم اکرم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دوسرا سال ہے کہ وہ بھارت نہیں گئے، وہاں کے دوست اور طرح طرح کے کھانے یاد آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارتی بولرز کو بولنگ سکھائی ہے، اس لیے انہیں اچھی بولنگ کرتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ وہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیے پر اُمید ہیں ۔ برف پر کرکٹ سے متعلق وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ یہ مزے کا ایونٹ ہے لیکن سردی بہت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کپتان ویرات کوہلی کرکٹ کے جدید دور سب سے بڑا بیٹسمین ہے ، وہ سُپر فٹ ہے اسےصحیح وقت پرٹیم کی قیادت ملی ہے۔ یاد رہے کہ سیاسی تناؤ کے پاکستان اور بھارت کے درمیان 2007 کے بعد سے کوئی مکمل دوطرفہ سیریز نہیں ہوئی ہے۔ بھارت نے آخری مرتبہ 2006 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جب کہ پاکستان ٹیم سنہ 13-2012 میں بھارت گئی تھی جہاں اس نے دو ٹی20 اور تین ون ڈے میچز کھیلے تھے۔ لیکن، مئی 2014 میں مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان سیاست کے ساتھ ساتھ کرکٹ تعلقات بھی تناؤ کا شکار ہیں اور دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے ایونٹس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف کھیلتی نظر آئیں۔