اداکارہ مدھو بالا کی آج 85 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

لاہور (کوہ نور نیوز) بالی ووڈ اداکارہ مدھو بالا کی آج 85 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے ۔ مدھو بالا 14 فروری 1933 کو نئی دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام بیگم ممتاز جہاں دہلوی تھا ۔ مدھو بالا کی تین بہنیں اور دو بھائی چھ سال کی عمر کو پہچنے سے قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔ اس کے بعد روزگار کی تلاش میں مدھو بالا نے فلم سٹوڈیوز کے چکر لگانا شروع کر دیئے۔ اسی دور میں انہیں ایک فلم میں کام کرنے کا موقع ملا جس کا نام بسنت تھا ۔ اس کے بعد اداکارہ دیویکا رانی کے مشورے پر انہوں نے اپنا نام مدھوبالا رکھا، ان کو پہلی بار جس فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملا اس کا نام نیل کمل تھا۔ مدھو بالا کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں اس دور میں اشوک کمار ، راج کپور ، رحمان ، پردیپ کمار ، دیو آنند ، شمی کپور اور دلیپ کمار جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ ان کی ایک فلم کا نام چلتی کا نام گاڑی تھا جس میں انہوں نے کشور کمار کے ساتھ کام کیا۔ مدھو بالا کو اصل شہرت تاریخ ساز فلم مغل اعظم سے حاصل ہوئی جس میں انہوں نے انارکلی کنیز کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں ان کے ساتھ اداکار دلیپ کمار اور پرتھوی راج کو مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا گیا تھا۔ مدھو بالا کا فلمی کیریئر 17 برس پر محیط تھا جس میں انہوں ںے 70 فلموں میں اداکاری کی ۔ مدھو بالا اور کشور کمار کے درمیان محبت کا سلسلہ ڈھاکے کی ململ کے سیٹ پر شروع ہوا اور انہوں نے 1960 میں شادی کر لی۔ اسی دور میں مدھو بالا شدید بیمار ہوئیں اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پاس زندہ رہنے کیلئے صرف دو برس کا وقت باقی تھا۔ انہیں دل میں سوراخ کا عارضہ لاحق تھا اور اس کا مسلسل علاج بھی جاری تھا۔ اسی دور میں انہیں راج کپور کے مقابل فلم چالاک میں کاسٹ کیا گیا مگر وہ اس فلم کی شوٹنگ مکمل نہ کروا سکیں۔ 1969 میں انہوں نے بطور ہدایت کارہ اپنی پہلی فلم فرض اور عشق کا آغاز کیا لیکن وہ اسے مکمل نہ کرسکیں اور 23 فروری 1969 کو انتقال کر گئیں ۔ 2004 میں ان کی وفات کے 35 برس بعد ان کی شہرہ آفاق فلم مغل اعظم کو رنگین کر کے دوبارہ ریلیز کیا گیا، 18 مارچ 2008 کو مدھو بالا کی فنی خدمات کے اعتراف میں ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا اور بعد ازاں 2017 میں دہلی کے مادام تسائو میوزیم میں ان کا مومی مجسمہ نصب کر دیا گیا ۔ مدھو بالا نے اپنے مختصر کیریئر میں جو مقام حاصل کیا اس کو فراموش کرنا ناممکن ہے۔