دوہری شہریت رکھنے والےسرکاری افسران سےمتعلق رپورٹ 25 دنوں میں طلب

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیئے کہ حکم کی تعمیل نہ ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دوہری شہریت رکھنے والے سرکاری افسروں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ 'تمام اداروں سے عدالتی احکامات پرتفصیلات منگوائی گئیں، دو صوبوں کی رپورٹ آچکی ہے، ابھی مزید اداروں سے رپورٹس آنا باقی ہے، لہذا حتمی رپورٹ کے لیے مزید وقت دیاجائے'۔ چیف جسٹس نے کہا کہ '43 وزارتوں میں سے 20 کی رپورٹ آئی ہے، سرکاری لوگ اپنے بچوں کو باہر منتقل کردیتے ہیں، یہاں گڑبڑ کرنے پر پکڑے جائیں تو باہر چلے جاتے ہیں'۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ 'جس شخص نے دوہری وفاداری کاحلف اٹھایا ہو، اس کی وفاداری کس کے ساتھ ہوگی؟' چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'پارلیمینٹیرینز کو دوہری شہریت پر نااہل کیا گیا، یہاں کے مفادات اور وہاں کے مفادات مختلف ہوسکتے ہیں، ہمارے پاس مکمل معلومات ہونی چاہئیں'۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ 'دوہری شہریت رکھنے والوں کی خبر دینے والے کو ایوارڈ دیں گے'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ بعد میں طے کریں گے کہ دوہری شہریت چھپانے والوں کے خلاف کیا ایکشن ہوگا'۔ بعدازاں کیس کی سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی گئی۔