ٹور آپریٹر نے حج کوٹے کیلئے ایک کروڑ روپے کی پیشکش کی، خورشید شاہ

اسلام آباد: (کوہ نور نیوز) خورشید شاہ نے یہ بات قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہی جس کے بعد ملک میں حج کے انتظامات کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ پچھلے دورِ حکومت میں تقریبا 2 ہزار 800 نئی کمپنیوں کو بطور حج ٹور آپریٹر رجسٹر کیا گیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ٹور آپریٹر حج کوٹہ حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کررہا ہے تو وہ اپنا یہ نقصان کیسے پورا کرے گا؟ یقینی بات ہے کہ یہ اخراجات عازمین حج کے کھاتے میں ہی ڈالے جائیں گے۔ واضح رہے کہ حج پالیسی 2018 اور کوٹہ تناسب کے خلاف ٹور آپریٹرز کی قانونی چارہ جوئی کے باعث سرکاری حج اسکیم کی قرعہ اندازی تاخیر کا شکار ہے اور پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا عمل بھی شروع نہیں ہوسکا ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال سرکاری حج اسکیم کے تحت تقریبا ًپونے چارلاکھ عازمین کی درخواستیں وصول ہوئی ہیں اور ان عازمین کے 106 ارب روپے مختلف بینکوں میں پڑے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ آٹھ ماہ پہلے 106 ارب روپے بینکوں میں رکھ کر ان پر منافع کون اٹھا رہا ہے؟ اراکن پارلیمنٹ نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے ٹور آپریٹرز کی طرف سے عمرہ اور حج کے کوٹے کے لیے رشوت کی پیشکش کے الزامات پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں اس کی نشان دہی کیوں نہیں کی؟ ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں زائرین بہترین انتظامات کی وجہ سے سرکاری حج اسکیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں رشوت دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی،خورشید شاہ نے اس وقت کی بات کی ہوگی جب ان کی حکومت تھی۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ عازمینِ حج کو بھرپور سہولتیں فراہم کریں، اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ وزارت سے رابطہ کرے۔ سردار یوسف نے وضاحت کی کہ جب تک قرعہ اندازی نہیں ہوتی پیسہ وزارت کے پاس نہیں آئے گا اور عازمینِ حج کی قرعہ اندازی ہونے تک پیسہ بینکوں میں ہی پڑا رہے گا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل 2010 میں بھی حج کرپشن اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا جس کے بعد اس وقت کے وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو 12 برس قید کی سزا سنادی گئی تھی۔ بعد ازاں حامد سعید کاظمی نے سزا کے خلاف اپیل کردی تھی اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارچ 2017 میں انہیں بری کردیا تھا۔