وزارت خزانہ اورسٹیٹ بینک کی پالیسیوں سے بہتری آئی: اسد عمر

اسلام آباد: (کوہ نورنیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ - اگرنظام فوراًتبدیل کیاتومعیشت منجمدہو جاتی ،وزارت خزانہ اورسٹیٹ بینک کی پالیسیوں سے بہتری آئی۔ اسد عمرکا کہنا تھا کہ معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں،آئی ایم ایف پروگرام میں کمٹمنٹس کیلئےگنجائش پیداہوتی ہے۔ کچھ چیزیں معاشی حجم کےلحاظ سےدیکھی جاتی ہیں۔ پبلک پرائیویٹ منصوبوں کیلئےحکومتی ضمانت دی جاتی ہے۔ملکی معیشت کو 3 بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ ٹیکس اتنا اکٹھا نہیں ہوتا جتنااخراجات کیلئے چاہیے۔ دوسال سےٹیکس ریونیومیں بہتری نظر آئی ہے۔ ٹیکس ریونیو 3700ارب سے 6100ارب تک پہنچ گیا۔ لوگ ٹیکس نیٹ میں آناہی نہیں چاہتےدرست ہے کہ جی ڈی پی شرح پہلےسےبہتر نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ احساس پروگرام مکمل ڈیجیٹلائز ہوچکاہے۔صحت سہولت پروگرام میں 400ارب پنجاب حکومت کاہے۔2017تک گردشی قرضہ سالانہ 450ارب روپےبڑھ رہاتھا۔ہم گردشی قرضہ 130 ارب روپےسالانہ تک لائے۔ ٹرانسمیشن ٹی اینڈڈی لاسز پہلےسے کم ہورہے ہیں۔ایل این جی پرانحصارکم کرکے2 سال میں 140ارب روپے بچائے۔گردشی قرضہ سال کےآخرمیں 300ارب تک کم کرنےکاہدف ہے۔نجی شعبوں کی 06 -2005کےبعدسرمایہ کاری نہیں دیکھی گئی،6ماہ میں ایک ہزارارب روپےکےقرضےنجی شعبوں نے لیے۔ اسد عمرکا کہنا تھا کہ ایف بی آرمیں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ بجٹ خسارہ سودکی ادائیگی اورپرائمری بیلنس پرمشتمل ہوتاہے۔ پرائمری بیلنس رواں آمدن اوراخراجات پرمشتمل ہوتا ہے۔ پرائمری بیلنس پرخسارہ پچھلے 15 سال میں کم ترین رہا۔