بھارت: ہندو لڑکی کے ساتھ سفر کرنے پر مسلمان نوجوان پر تشدد

ممبئی: (کوہ نورنیوز،ویب ڈیسک) بھارت میں مذہبی جنونیت انتہا پر پہنچ گئی۔ ریاست کرناٹک میں ہندو لڑکی کے ساتھ سفر کرنے پر مسلمان نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ واقعہ کرناٹک کے شہر منگلورو میں پیش آیا۔ جب ایک جوڑا کیرالا سے آنے والی بس میں سفر کر رہا تھا تو تین سے چار نامعلوم افراد نے بس کو روکا اور مسلمان لڑکے کو باہر نکال کر تشدد کیا۔ 20 سالہ نوجوان سید رسیم عمر کرناٹک کے شہر کرکلا کے ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کرتا ہے جبکہ خاتون کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سید رسیم عمر کو ہندو انتہا پسندوں نے بس سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور ڈنڈوں سے مار پیٹ کی، ساتھ ہی واقعے کی اطلاع دینے کی صورت میں سنگین نتائج دھمکیاں بھی دیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست جماعت بجرنگ دل کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ریاست کرناٹک میں ہندو قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اپریل کے مہینے میں بھی ہندو خاتون کو ساتھ بٹھانے پر مسلمان رکشہ ڈرائیور پر تشدد کیا گیا تھا۔