ملک کی بڑی جماعت کو سینیٹ الیکشن سے فارغ کرنا ناقابل فہم ہے: نواز شریف

لاہور: (کوہ نور نیوز) ن لیگ کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے سابق وزیراعظم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا میرے خلاف کوئی کیس نیب نے نہیں بنایا، منتخب وزرائے اعظم کو ذلیل کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا ہر مارشل لاء کو نظریہ ضرورت کے تحت تحفظ دیا گیا، مارشل لاء پر مہر لگائی گئی ، آمروں کے ہاتھ پر بیعت ہوتی رہی۔ ان کا کنا تھا چھ ماہ میں مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن کا کیس سامنے نہیں آیا۔ نواز شریف نے مزید کہا 1947 سے یہ کام شروع ہوا اور آج تک ختم نہیں ہوا ، تاریخ کو قبرمیں دفن نہیں کیا جاسکتا، ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے ، جو 70 سال سے کرتے آئے یہ اسی کا ایک باب ہے۔ انہوں نے کہا میں حیران ہوں اور میری حیرانی بالکل جائز ہے ، کب تک ہم یہ کرتے رہیں گے، ہماری جماعت اسے قبول نہیں کرے گی کہ جو چاہے اسے ہانکے، پی سی او کے تحت حلف لینا ملک میں سب سے بڑا جرم ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا آپ ایسے فیصلے دیں، نواز شریف اسے قبول نہیں کر سکتا، عوامی طاقت سے آنے والوں کو آپ ایسے نکال دیتے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا میں اگر خاموش ہوں تو میرے ضمیر اور دل و دماغ سے پوچھیں، برملا کہوں گا کہ یہ فیصلہ نہیں مانتا، ایسا فیصلہ مان لینا ہمارے ضمیر اور اصولی موقف کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہاں ہے عوام کی حاکمیت، کہاں ہے عوام کی عزت ؟ بہت ہوگیا، بہت سیاسی لیڈر پھانسیاں چڑھ چکے، سیاستدان آسان ہدف ہیں، ہتھ کڑیاں لگوا دو اور ملک بدر کروا دو۔ نواز شریف نے کہا اگر یہی نظام ہے تو میں اسے قبول کرنے کو تیار نہیں، عوام کو جو 70 سال میں نہیں مل سکا وہ دلاؤں گا، یہ سکھا شاہی نہیں چلے گی اور نہ چلنے دوں گا۔ انہوں نے کہا موٹرویز کا جال بچھایا، بجلی کے منصوبے لگائے، ہم ترقی کا نیا دور لے کر آئے اور کراچی میں امن قائم کیا۔