پانی میں گرے موبائل کو محفوظ کیسے رکھا جائے

لاہور(کوہ نور نیوز) اگر موبائل فون پانی میں گر جائے تو گھبراہٹ کے عالم میں ہم نجانے کیا کچھ کرنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اکثر ہم کچھ ایسا کر بیٹھتے ہیں جو فائدے کی بجائے الٹا نقصان کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ماہرین سے جان لیا جائے کہ ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئیے۔ ویب سائٹ گیجٹس ناﺅ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون پانی میں گر جانے کی صورت میں درج ذیل باتوں کو مدنظر رکھنا آپ کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔ موبائل پانی میں گرجائے تو کچھ لوگ اسے ہیئر ڈرائیر سے خشک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہیئر ڈرائیر کی ہوا بہت گرم ہوتی ہے جو اندرونی الیکٹرانک سرکٹ کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔ اسی طرح اسے کسی ریڈی ایٹر یا اوون کے اندر رکھ کر اسے خشک کرنے کی غلطی تو ہرگز نہ کریں۔ پانی سے نکالنے کے بعد اسے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ کیونکہ موبائل کے مختلف بٹن دبانے سے سرکٹ میں خرابی واقع ہوسکتی ہے جبکہ اسے چارجنگ پر لگانے کی کوشش کسی بڑے نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ چونکہ موبائل فون کو پانی سے نکالنے کے بعد استعمال کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اسے فوری طور پر بند کردیں۔ موبائل فون کو پانی سے نکالنے کے بعد کپڑے سے خشک کرنا اور اچھی طرح ہلانا یا جھٹکنا بہتر ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بعد اسے ٹشو پیپر میں لپیٹ دیں تاکہ اس میں موجود پانی ٹشو پیپر میں جذب ہوجائے۔یہ سب کرنے سے قبل اس میں سے سم کارڈ اور میموری کارڈ نکال دینا چاہیے۔ چاول بہت زیادہ پانی جذب کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے موبائل فون کو آف کرنے کے بعد 24 سے 48 گھنٹے کے لئے کچے چاولوں میں دبا دیں تو اس کے اندر موجود پانی بڑی حد تک چاولوں میں جذب ہوجائے گا، لیکن اس کا ایک نقصان ہوسکتا ہے کہ چاولوں میں موجود گرد و غبار موبائل فون میں جاسکتا ہے۔ دھوپ میں رکھ کر موبائل فون کو خشک کرنا بھی اچھا طریقہ ہے۔ اگر ان ٹوٹکوں کے بعد بھی آپ کا موبائل فون کام نہیں کر رہا تو اسے کمپنی کے سروس سنٹر لے جانے کی ضرورت ہو گی۔ ایسی صورت میں میں غلط بیانی مت کریں۔ دراصل موبائل فون کے اندر سنسر لگے ہوتے ہیں جو پانی لگنے کی صورت میں رنگ تبدیل کرلیتے ہیں اور یوں کمپنی کے ماہرین موبائل فون کے اندرونی حصوں کا معائنہ کرکے باآسانی جان سکتے ہیں کہ یہ پانی میں گرنے سے خراب ہوا ہے یا مسئلہ کچھ اور ہے۔