سندھ اسمبلی:ڈنگی اوربھنڈار جزائر پرآرڈیننس کیخلاف قرارداد اکثریت رائےسےمنظور

کراچی: (کوہ نور نیوز) سندھ اسمبلی نے ڈنگی اور بھنڈار جزائر پر آرڈیننس کے خلاف قرارداد اکثریت رائے سے منظور کر لی ہے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، تحریک لبیک (ٹی ایل پی) اور تحریک انصاف کے رکن شہریار شر نے بھی قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد کے مطابق آرڈیننس اسلامک ریپبلک آف پاکستان کے آئین 1973ء کے خلاف ہے جو 2 ستمبر 2020ء کو آفیشل گزٹ میں شائع کیا گیا، آرٹیکل 97 کی صریحاً خلاف ورزی اور بنڈل اور بڈو جزائر پر غیر قانونی اختیار کے ذریعے قبضے کے برابر ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ جزائر اور ساحلی علاقہ آئین کے آرٹیکل 172 کے تحت صوبے کی ملکیت ہے۔ وفاقی حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے جزائر کی ملکیت پر غیر آئینی اور غیر قانونی قبضہ کی کوشش کی۔ صوبہ سندھ کے عوام وفاقی حکومت کو غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت وفاقی حکومت کو بلا اجازت سندھ کے ساحل اور جزائر پر کسی قسم کے قبضے کی اجازت نہیں دے گی۔ قرارداد کے تحت وفاق کی جانب سے کسی بھی زور زبردستی کی بنیاد پر جزائر پر قبضہ کرنے کی کوشش آئین کے آرٹیکل 1،97،172 اور 239 (4) کے تحت غیر قانونی ومتصادم قرار دیتی ہے۔ سندھ اسمبلی اس قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت کو جزائر سے متعلق آرڈیننس کو فوری واپس لے کر سندھ میں پیدا شدہ بے چینی کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔